نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں دو سوال


 پاکستان سمیت بہت سے ترّقی پزیر ممالک میں سرکاری سکولوں کی حالت ھمیشہ سےھی خراب رھی ھے۔ اٌمرا اور  اشرافیہ نے اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے مہنگے نجی سکولوں میں بھیجا اور یہ سلسلہ جاری ھے ۔ البتّہ پچھلی دو دہاۂوں میں کم فیس لینے والے سکول بھی منظرعام پر آئے ھیں۔  چند ماھرینِ معاشیات ایسے سکولوں کو ایک ابھرتی ھؤی تعلیمی منڈی کا حِصّہ قرار دیتے ھؤے ایک مثبت پیشرفت  مانتے ھیں۔  اِن ماھرین کا کہنا ھے حکومتی نوکرشاھی کے تحت چلتے سکولوں میں اسلاح ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ھے کہ جب نجی سکول طالبعلموں کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ آرأ ھوں گے تو فیسیں بھی کم ھوں گی اور تعلیم کا میعار بھی بہتر ھو گا۔ چند لوگوں کا یہ بھی کہنا ھے کہ نجی سکول معاشرے  میں بڑھتی ھؤی  اِنتہاپسندی کو روک سکتے ھیں۔ آپ کیا سمجھتے ھیں؟  ووٹ دیجیے اوریہ ضرور بتایے کہ آپ نے ھاں یا نھیں کیوں کہا ـ آپ کے وقت اور خیالات کا شکر یہ

Advertisements

About Irfan

I am an independent researcher and blogger interested in everything under the sun, but more so in the philosophy and history of education and education reform generally, and specifically in the so-called post colonial contexts

6 Responses to “نجی تعلیمی اداروں کے بارے میں دو سوال”

  1. اس سے پہلے کہ ہم سستے سکولوں پر بحث کا آغاز کریں…ہم یہاں ایک بڑی غلط فہی کا شکار ہیں کہ مہنگے تعلیمی ادارے جو صرف امراء اور اشرافیہ کے لیے مخصوص ہیں بہتر نظام تعلیم کی آماجگاہ ہیں۔

  2. صایمہ، رأے کا شکریہ۔ اِس پوسٹ میں مہنگے سکولوں میں میعارِ تعلیم کے بارے میں کوئی رأے نہیں دی گئی۔کہا گیا ھے تو صرف یہ کہ اٌمرا و اشرافیہ اپنے بچوں کو روایتً انھی سکولوں میں بھیجتے ھیں۔

  3. ماہرین معاشیات سستے سکولوں کو تعلیم …سب کے لیے…کا سستا طریقہ تو ضرورمانتے ہیں تاھم وہ ان سکولوں کے ناقص تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے کوئ بھی قابل عمل رائے دینے سے قاصر ہیں۔

  4. ہو سکتاہے کہ میری رائے سیاق وسباق سےہٹ رہی ہو.لیکن کیا
    آپ جانتے ہیں کہ معیاری تعلیم کی تعریف کیا ہے؟کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ امیروں اور غریبوں کے لیے معیاری تعلیم کی موجودہ تعریف مختلف ہے؟

  5. تعلیمی میعار مختلف ہونا بالکل ممکن ہے۔ میری نظر میں اس میں کوئی تضاد نہیں۔ تمام بچوں کے لیے، بنا کسی تفریق کے، یکساں میعارھونا چاہیے، یہ فیصلہ تو ریاست یا عدالت ہی منوا سکتی ھے۔ اور اگر ریاست یہ کرنے جوگی نہیں تو پھر جو اپنے مفاد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق جو کچھ کر سکتا ھے، کرتا ھے۔ رہا سوال تعلیمی میعار کی تعریف کا، تو میری نظرمیں کوئی ایک تعریف دینا نامناسب ہوگا۔ ھاں کسی بھی میعار پر پورا اترنے کی تعریف ممکن ھے۔ میعار پر پورا اترنے کا مطلب ھے جو وعده کیا اس کو پورا کیا ۔ بالفاظ دیگر، اگرمیعار یہ کہے کہ دوسری جماعت میں ھر بچے کو تقسیم کرنا آنی چاہیے تو جو سکول یہ کر پاۂے وه میعاری کہلاے ۔ سو، میعاری کا مطلب ھوا جو کہنا وه کر کے دکھانا۔ لیکن یہ امیروں اور غریبوں کے لیے مختلف ھو سکتا ھے جب تک ریاست اپنے ریاست ھونے کا فرض ادا نا کرے ۔

  6. بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری ریاست بیرونی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کے حد درجہ زیر اثر ہےجو اسے اپنے اہم ترین مقصد ،یعنی عوام کی فلاح و بہبود ،سے پہلوتہی کرنے پر مجبور کرتی ہے.اندرونی عوامل پھی کچھ کم نہیں۔جس ریاست کے اسمبلی ارکان کی اکثریت جعلی ڈگریوں کی حامل ہو اسے معیاری تعلیم کے فروغ میں کیا دلچسپی ہوگی؟

    اب رہا نجی سکولوں بارے سوال!تحقیق سے یہ بات تو ثابت ہے کہ ان سکولوں کی اکثریت معیاری تعلیم مہیا کرنے سے قاصر ہے(2011 اثر) ۔ اب اگر آپکی بیان کردہ معیاری تعلیم کی تعریف کو سامنے رکھیں(یعنی جو کہا وہ کر کے دکھانا) تو جو نجی سکول بچوں کو معیاری تعلیم مہیا کرنے کا جواز پیدا کرتے ہیں انکا فرض بنتا ہے کہ وہ کم از کم ٹیکسٹ بک بورڈ کے متعلقہ نصاب کو بچوں کو سکھانا یقینی بنائیں۔ اگر پانچویں جماعت کے بچے دوسری جماعت کی کتاب بھی پڑھنے کے قابل نہ بن سکیں یا ریاضی کےبنیادی جمع/ تفریق کے اصولوں میں مہارت حاصل نہ کر سکیں تواسکا مطلب ہے کہ یہ نجی سکول معیاری تعلیم کے مقصد کو حاصل کرنے میں بالکل ناکام ہیں۔اس صورتحال میں ان سکولوں کے قیام کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ پھر سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا غیر معیاری سکولوں کا احتساب کیسے کیا جائے؟ کیا انہین بند کر دیا جائے یا ان کے اساتذہ کو نکال باہر کیا جائے؟

    یہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے۔یہ نجی سکول لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔سستے نجی سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کم اجرت پر بچوں تعلیم دینے پر مامور ہیں اور انکا کوئی اور ذریعہ معاش بھی نہیں-ان حالات میں ایسا کرنا کوئی دانشمندانہ فعل نہیں ہو سکتا۔

    ہمارے ملک کےان مححقین اور دانشوروں کو جومعیاری تعلیم کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں حقیقی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اور مثبت تجاویز دینی چاہییں۔ سستے سکولوں میں سستی مگر معیاری تعلیم کے لیے ایساطریقہ کار وضع کرنا ہوگاجو کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ سہل اور قابل فہم ہو۔

    نجی تعلیمی اداروں کا فروغ صرف اس صورت مین فائدہ مند ہو سکتا ہےاگر یہ محض منافع بٹورنے کی بجائے معیاری تعلیم کی مروجہ تعریف پر پورا اتریں۔ غیر معیاری تعلیم کے حامل بچےبڑے ہو کر جب تلاش معاش میں نکلیں گے تو ناکامی کی صورت میں انتہا پسندی کا راستہ بھی اپنا سکتےہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: